اتوار، 6 اکتوبر، 2013


لوگ کہتے ہیں کہ ٹیکنا لوجی نے فاصلے کم کیئے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔یہ درست ھے کہ اس سے فاصلے کم ہوئے لوگ اپنے پیاروں سے ٹچ(رابطے میں) رہتے ہیں۔لیکن سوچنے کی بات یہ ھے کہ اس سے لوگوں کے دلوں سے محبت کیوں ختم ہوتی جا رہی ہے؟پہلے لوگ سالوں کے بعد ایک دوسرے سے ملتے لیکن ان کے دلوں مین محبت،خلوص اور چاہت ہوتی تھی۔لیکن آج کے دور میں آپ کسی سے روزانہ دو گھنٹے بھی فون پر بات کرتے ہوں لیکن اگر کبھی وہ غلطی سے کوئی نصحیت کر دے یا کوئی مذاق کر دے تو آپ سے برداشت نہیں ہوتا۔اور برداشت نہ کرنے کی وجہ یہی ھے کہ آپ کے دل میں اس کے لیے محبت نہیں۔لوگ اس کا الزام زمانے کو دیتے ہیں کہ زمانہ ایسا ھے۔زمانہ بہت برا آ گیا ھے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ انسان زمانے کو برا بھلا کہتا ھے جبکہ میں
زمانے کو بدلتا رہتا ہوں۔زمانے کو برا کہنا غلط ہے بلکہ اس کی وجہٹیکنالوجی اور اس کا استعمال کرنے کا طریقہ ھے۔جیسے پہلے عید آتی تھی تو ھم اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو عید کارڈ اور گفٹ بھجیتے تھے جب بھی آپ کسی کے لیے گفٹ لینے جاتے ھیں تو اس کی پسند اور ناپسند کو ذہن میں رکھتے ہیں۔لیکن آج کے دور میں آپ صرف ایک ایس-ایم -ایس کر دیتے ہیں۔جس پر ایک سیکنڈ(لمحہ) لگتا ہو گا۔اس ٹیکنالوجی کے استعمال نے ہمارے دلوں سے پیار محبت اور خلوص کو ختم کر دیا ہے۔
ٹیکنالوجی کے بہت سے فائدے ہیں لیکن ہم اپنے پیاروں کو بھولتے جا رہے ہیں ہمیں انٹرنیٹ کے استعمال کے دوران کوئی آواز دیتا ہے تو ہم اس کی سنی ان سنی کر دیتے ہیں ہم ھزاروں میل بیٹھے دوست کے زکام پر پریشان ہوجاتے ہیں بار بار اس کا حال پوچھتے ہیں لیکن اپنے بیمار بوڑھے باپ کا حال نہیں پوچھتے جو ہمارے قریب چارپائی پر پڑا کھانس رہا ہوتا ہے
ایک وقت ایسا بھی آئےگا جب آپ اسی طرح اپنے بستر پر تڑپ رہے ہونگے اورآپ کے بچے نیٹ پر اسی طرح مصروف ہونگے۔

ہم ہر گزرتے دن کے ساتھ تاریکی اور پستی میں گرتے جا رہے ھیں۔اسلامی تعلیم پر

عمل اور اخلاقی اقدار کا ہونا تو اب کہیں بھی نظر نہیں آتا اس کی سب سے بڑی

وجہ ان چیزوں کا دیکھنا ھے جو ہمیں ہماری تہزیب سے ہماری ثقافت سے اور

اسلامی تعلیم پر عمل کرنے سے دور کر رہی ھیں اس میں سب سے بڑا رول میڈیا کا

ھے ۔اس پر وہ سب کچھ دیکھیا جاتا ھے جو ہمیں اخلاقی پستی کی طرف کے جا رہا

ھے.تمام چینلز پر کوئی بھی ایسا پروگرام نہیں ہوتا جو آپ اپنی فمیلی کے ساتھ بیٹھ

کر دیکھ سکتے ہوں ۔اب تو خبروں کا بھی یہی حال ھے۔سوال یہ ھے ہم کب تک یہ

برداشت کریں گے؟ہم کب اس کے خلاف نہ صرف آواز بلند کریں گے بلکے متحد ہو

کر کھڑے ہوں گے؟ اب وہ وقت آیا گیا ھے جب ہمیں عملی طور پر کچھ کرنا ہو

گا۔اگر ہم اسی طرح ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہے تو ہماری نئٰ نسل اسی اخلاقی

پستی میں گرتی چلی جاے گی۔اج آپ سب یہ عہد اور فیصلہ کر لیں کہ ہمیں ایسے

چینلز کا مکمل بائیکاٹ کرنا ہے جو ہماری نسلوں کو بربادی کی طرف لے جا رہے

ہیں تو کافی حد تک اس زھر سے ھم اپنے بچوں کو محفوظ کر سکتے ہیں جو ان کی

دنیا اور آخرت کیلئے مہلک ہے


ہمارے ہاں روزانہ کئی لاشیں گرتی ھیں۔معصوم بچیوں کا ریپ
ہو رہا ھے۔چوری کی ورادت میں پر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ
ہوتا جا رہا ھے اور ہم اس پر خاموش ہین ۔ہم ایسی خبروں
پر کالم لکھ کر اپنا فرض ادا کر دیتے ہیں۔۔سوشل میڈیا پر پوسٹ لکھ کر کومنٹس کر دیتے
ھیں۔لیکن آج تک ہم نے اس سب کو روکنے کے لیے کیا کیا؟اسلام
مین ھے جب براہی کو دیکھو تو ہاتھ سے روکنے کی کوشیشں
کرو۔ہاتھ سے نہ روک سکو تو زبان سے روکو اور اگر زبان سے
نہ روک سکو تو دل سے برا جانو اور یہ ایمان کا سب سے
کمزور ترین درجہ ھے اور ہم نے بھی ایمان کے سب سے کمزور
ترین درجے کو اپیانا ہوا ھے۔ظلم پر دو لفظ بول پر سمجھ لینا کہ
ہم نے ہونے والے ظلم کا خلاف بول کر اپنا حق ادا کر دیا
ھے۔میرے خیال سے یہ آجکل کے ظالم کی حوصلہ افزائی ھے.
حکومت اور دیگر اداروں کے بارے میں کہنا کہ وہ لوگ اس
بارے کچھ کر نہیں رہے بالکل غلط ہو گا وہ کر رہے ہیں اور اس
سب میں بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں وہ نہ صرف ان کے
خلاف کوئی کاروائی نہین کر رہے بلکہ ان کو تحفظ بھی فراہم
کر رہے ہیں انکے خلاف کوئی کاروائی نہ کر کے۔اس سب میں
ہمارا کردار بھی بہت اہم ھے وہ یہ کہ ہم ظلم کے خلاف خاموش
رہ کریا دو لفظ بول کر بھی ظالم کی حوصلہ افزائی کر رہے
ہیں۔جب تک ہم قرآن و سنت کے قوانین کو نافذ نہیں کریں
گے ہم اپنے ملک سے کبھی بھی زنا،چوری اور قتل جیسے سنگین جرائم
کو ختم نہین کر سکتے
3