ہمارے ہاں روزانہ کئی لاشیں گرتی ھیں۔معصوم بچیوں کا ریپ
ہو رہا ھے۔چوری کی ورادت میں پر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ
ہوتا جا رہا ھے اور ہم اس پر خاموش ہین ۔ہم ایسی خبروں
پر کالم لکھ کر اپنا فرض ادا کر دیتے ہیں۔۔سوشل میڈیا پر پوسٹ لکھ کر کومنٹس کر دیتے
ھیں۔لیکن آج تک ہم نے اس سب کو روکنے کے لیے کیا کیا؟اسلام
مین ھے جب براہی کو دیکھو تو ہاتھ سے روکنے کی کوشیشں
کرو۔ہاتھ سے نہ روک سکو تو زبان سے روکو اور اگر زبان سے
نہ روک سکو تو دل سے برا جانو اور یہ ایمان کا سب سے
کمزور ترین درجہ ھے اور ہم نے بھی ایمان کے سب سے کمزور
ترین درجے کو اپیانا ہوا ھے۔ظلم پر دو لفظ بول پر سمجھ لینا کہ
ہم نے ہونے والے ظلم کا خلاف بول کر اپنا حق ادا کر دیا
ھے۔میرے خیال سے یہ آجکل کے ظالم کی حوصلہ افزائی ھے.
حکومت اور دیگر اداروں کے بارے میں کہنا کہ وہ لوگ اس
بارے کچھ کر نہیں رہے بالکل غلط ہو گا وہ کر رہے ہیں اور اس
سب میں بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں وہ نہ صرف ان کے
خلاف کوئی کاروائی نہین کر رہے بلکہ ان کو تحفظ بھی فراہم
کر رہے ہیں انکے خلاف کوئی کاروائی نہ کر کے۔اس سب میں
ہمارا کردار بھی بہت اہم ھے وہ یہ کہ ہم ظلم کے خلاف خاموش
رہ کریا دو لفظ بول کر بھی ظالم کی حوصلہ افزائی کر رہے
ہیں۔جب تک ہم قرآن و سنت کے قوانین کو نافذ نہیں کریں
گے ہم اپنے ملک سے کبھی بھی زنا،چوری اور قتل جیسے سنگین جرائم
کو ختم نہین کر سکتے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں